اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سعودی جنگی طیاروں کی جانب سے یمنی شہریوں پر وحشیانہ حملوں اور خواتین و بچوں کے قتلِ عام پر ردعمل ظاہر کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سعودی حکومت کا یمن کے خلاف جارحیت جاری رکھنے پر اصرار اس کے نقصانات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور اسے ایک غیر یقینی انجام کی طرف دھکیل رہا ہے۔
یمن کی وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ یمن کے خلاف فوجی جارحیت کا آغاز 26 مارچ 2015ء کو ہوا تھا۔ اس جارحیت کے دوران جنگی جرائم، نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر کئی اقسام کے جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔
وزارت نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی یمن کے خلاف جارحیت جتنی طویل ہوتی جائے گی، نقصانات کے ازالے اور ہرجانے کی ادائیگی کی لاگت بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ خطے کے بعض فریق سعودی عرب کو دھوکا دے کر اور یمن کے خلاف اس کی جارحانہ جنگ میں حمایت کا دعویٰ کرکے درحقیقت سعودی حکومت سے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسے اس جنگ میں مزید الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یمن کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ یمن اپنی فیصلہ کن جنگ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے؛ ایسی جنگ جس کا نتیجہ ملک کے حال اور مستقبل کا تعین کرے گا۔
آپ کا تبصرہ